17 اگست 2014 - 15:05
آزادی مارچ اور انقلاب مارچ، اب کیا ہو گا؟

پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے جہاں آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے شرکاء اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں وہیں حکومت نے بھی جڑواں شہروں کو قلعے میں تبدیل کر دیا ہے اور ریڈ زون میں موبائل فون سروس بھی معطل ہے اور کسی کو بھی ریڈ لائن کراس کرنے کے سخت نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے جہاں آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے شرکاء اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں وہیں حکومت نے بھی جڑواں شہروں کو قلعے میں تبدیل کر دیا ہے اور ریڈ زون میں موبائل فون سروس بھی معطل ہے اور کسی کو بھی ریڈ لائن کراس کرنے کے سخت نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس موضوع پر پاکستان کے تجزیہ نگار ارشاد عارف سے گفتگو کی اور ان سے پہلے یہ پوچھا کہ آزادی اور انقلاب مارچ کے شرکاء کا اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے اور علامہ طاہرالقادری نے حکومت کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائے، اسمبلیاں تحلیل کی جائیں اور نواز شریف کو ملک سے فرار کی اجازت نہ دی جائے۔
14 اگست کو لاہور سے شروع ہونے والا انقلاب اور آزادی مارچ اس وقت اسلام آباد پہنچ چکا ہے جہاں علامہ طاہرالقادری نے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ بھی پیش کر دیا ہے، جس میں وزیراعظم اور وزیراعلٰی پنجاب سے استعفٰی طلب کیا گیا ہے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث وزراء کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمنٹ اور اسمبلیاں بھی تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ یہ جس سسٹم کے ذریعے قائم ہوئی ہے، ڈاکٹر طاہرالقادری اس الیکٹوریل سسٹم کو ہی تسلیم نہیں کرتے۔ طاہرالقادری نے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ میں مطالبہ کیا ہے کہ نئی قومی حکومت قائم کی جائے جو جمہوری اصلاحات کرے۔ چارٹرڈ آف ڈیمانڈ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کرپشن کرنے والوں کا کڑا احتساب کیا جائے اور قوم کے مجرموں کو سرعام سزائیں دی جائیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان کا دس نکاتی ایجنڈا نافذ کیا جائے، جس میں عوام کو تمام حقوق حاصل ہوں گے، غربت، بے روز گاری، افلاس اور بحرانوں کا خاتمہ ہوگا، عام آدمی کو روٹی کپڑا اور مکان ملے گا، اور تعلیم و صحت کی بنیادی سہولتیں بھی عوام کو میسر آئیں گی۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ میں سب سے اہم نکتہ جو اٹھایا ہے وہ نئے پاکستان میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ ملک سے تکفیریت کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے، آئین میں ترمیم کرکے قانون بنایا جائے گا تاکہ کوئی کسی کو کافر نہ کہہ سکے، فتویٰ بازی کی فیکٹریاں بند کر دی جائیں گی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے گا۔دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والوں کا بھی کڑا احتساب ہوگا، امن، برداشت اور رواداری کا مضمون تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے گا، تاکہ فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی ہو۔ اقلیتیوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے اور نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے یہ چارٹرڈ آف ڈیمانڈ دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی منظوری تک وہ اسلام آباد میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
حقوق کی اس جنگ میں پاکستان کی ملت تشیع اور اہل سنت متحد ہوچکے ہیں۔ انقلاب سے پہلے انقلاب یہ ہے کہ تکفیری اور دہشت گرد بے نقاب ہوچکے ہیں اور محب وطن اہل سنت اور اہل تشیع اپنے وطن کی بقا کے لئے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ شیعہ سنی اتحاد نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان بنانے اور پاکستان بچانے والے شیعہ اور سنی ہی ہیں، باقی جتنے اقتدار کے لالچی ہیں انہیں وطن سے کوئی غرض نہیں۔ قوم کا اتحاد ملک میں انقلاب کی دستک دے رہا ہے اور پاکستان میں ایک تبدیلی بہرحال آنے والی ہے، انقلاب اور آزادی مارچ کی صدا نے پاکستانی سیاست کو ایک انتہائی نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے اور حکومت اور اس کے مخالفین سمیت تمام حلقوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئیے کہ کسی بھی جانب سے کوئی ایسا قدم نہیں ٹھایا جانا چاہئے جو آئین اور آئینی نظام کیلئے خطرہ بن سکتا ہو۔ اس لئے کہ آئین ختم ہوا تو قوم کو متحد رکھنا مشکل ہوجائے گا۔ یہ وہ سرخ لکیر ہے جسے عبور کرنے سے ہر فریق کو قطعی گریز کرنا چاہئے اور اس ملک کی سیاسی اورمذھبی جماعتوں کے رہنماوں کو چاہئیے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فریقین میں افہام و تفہیم کیلئے کوشش کریں اوراس ضمن میں بات چیت اور مفاہمت کیلئے حکومت کو چاہئیے کہ وہ پہل کرے اس لئے کہ ملک کا نظام حکومت کے ہاتھ میں ہے اور حکومت ہی عوام کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے ۔ تاہم فریقوں کو ملک کے وسیع تر مفاد میں اپنے اپنے موقف میں کسی نہ کسی حد تک نرمی لانی ہوگی۔تاکہ اس بحران کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے۔

.......

/169